وسطی افریقی جمہوریہ کے مغربی علاقے زامبوئی میں کیمرون کی سرحد کے قریب سونے کی کان بیٹھنے کے خوفناک حادثے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔کیمرون کے سرحدی قصبے گاروآ بولائی کے میئر آدمو عبدون کے مطابق اب تک ملبے سے 107 لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کان کے مقام پر ایک بڑا زمینی حصہ اچانک وہاں موجود لوگوں کے ہجوم پر آگرا، جبکہ کئی افراد جان بچانے کے لیے بھاگتے ہوئے نظر آئے۔حادثے کے ایک عینی شاہد مزدور نے بتایا کہ زمین مکمل طور پر دھنس گئی، جس کے باعث متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔ کچھ افراد کے اب بھی ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔کیمرون کے مشرقی علاقے کے گورنر گریگوری ایمونگو نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم تین افراد کا تعلق کیمرون سے ہے۔ ان کی لاشیں تدفین کے لیے آبائی وطن منتقل کی جارہی ہیں، جبکہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔مقامی حکام اور بیبووا کے پبلک پراسیکیوٹر کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ کان کے اندر موجود متعدد زیرِ زمین سرنگوں کے بیٹھنے کے باعث یہ سانحہ پیش آیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق حکام نے حادثے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔
واضح رہے کہ اس خطے میں دستی کان کنی لوگوں کے روزگار کا ایک بڑا ذریعہ ہے، تاہم ناقص حفاظتی انتظامات، غیر محفوظ کانوں اور بارشوں کے باعث زمین کمزور ہونے کی وجہ سے ایسے حادثات اور تودے گرنے کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔