راشد منہاس شہید کے 55ویں یومِ شہادت پر صدر، وزیراعظم اور مسلح افواج کا خراجِ عقیدت

پاک فضائیہ کے عظیم سپوت اور نشانِ حیدر حاصل کرنے والے پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید کا 55واں یومِ شہادت آج عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے۔اس موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان سمیت پاک فوج کی جانب سے راشد منہاس شہید کی عظیم قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیاآئی یس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے سربراہان سمیت مسلح افواج نے راشد نہاس ہید کی لازوال قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ راشد منہاس شہید کی عظیم قربانی آج بھی پاک فضائیہ کے جوانوں اور پوری قوم کے لیے مشعلِ راہ ہے، جبکہ ان کا نام شجاعت، قربانی اور فرض سے غیر متزلزل وابستگی کی علامت کے طور پر ہمیشہ زندہ رہے گا۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کے کم عمر ترین نشانِ حیدر حاصل کرنے والے راشد منہاس شہید کی قربانی قومی تاریخ کا روشن باب ہے۔ ان کی جرات، فرض شناسی اور حب الوطنی آنے والی نسلوں کے لیے عزم و حوصلے کا پیغام ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے بھی راشد منہاس شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی عظیم قربانی قوم کے لیے جرات، حب الوطنی اور فرض شناسی کی لازوال مثال ہے۔ وزیراعظم نے شہید کے بلند درجات کے لیے دعا بھی کی۔راشد منہاس شہید 17 فروری 1951 کو کراچی میں پیدا ہوئے اور 14 مارچ 1971 کو پاک فضائیہ کے جی ڈی پائلٹ کورس میں کمیشن حاصل کیا۔20 اگست 1971 کو انہوں نے کراچی کے مسرور ایئر بیس سے تربیتی پرواز کے لیے اڑان بھری۔ اسی دوران انسٹرکٹر پائلٹ فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمان نے طیارے کو ہائی جیک کرکے بھارت لے جانے کی کوشش کی۔بھارتی سرحد کے قریب راشد منہاس شہید نے طیارے کا رخ واپس پاکستان کی جانب موڑنے کی بھرپور کوشش کی، تاہم صورتحال قابو سے باہر ہونے پر انہوں نے طیارے کا رخ زمین کی جانب موڑ دیا اور اپنی جان قربان کرکے وطن کی خودمختاری اور قومی وقار پر آنچ نہیں آنے دی۔