ٹرمپ نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے خفیہ رابطوں کی تصدیق کردی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے حکام سے امریکی حکام کے براہِ راست خفیہ رابطوں کی تصدیق کردی ہے۔
امریکی میڈیا ادارے فاکس نیوز کے مطابق ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ واشنگٹن اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے درمیان بیک چینل رابطہ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ امن کے لیے اب بھی وقت ہے، تاہم انہوں نے ایران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ بھی کیا۔
ٹرمپ کے مطابق امریکی حکام ایرانی سیاسی قیادت کو بائی پاس کرتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب کے بعض حکام سے براہِ راست رابطے میں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی اولین ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہدوسری جانب غزہ کی صورتحال پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ حماس اپنے ہتھیار چھوڑنے پر آمادہ ہے اور کہا کہ امریکا کے حماس کے ساتھ اپنے ذرائع سے رابطے ہیں۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ موجودہ صورتحال میں اسرائیل کو غزہ پر حملے نہیں کرنے چاہئیں۔ تاہم دیگر رپورٹس کے مطابق حماس کی جانب سے غیر مسلح ہونے کی پیشکش بعض شرائط سے مشروط ہے، جبکہ اسرائیلی حکومت نے مکمل غیر مسلح ہونے تک فوجی انخلا پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ رابطے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے اور خطے میں سفارتی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔