واشنگٹن، 9 اگست 2026: ایران جنگ کے باعث امریکی ہتھیاروں کے ذخائر پر بڑھتے دباؤ کے پیش نظر امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے بڑی دفاعی کمپنیوں کو اسلحے کی پیداوار اور ترسیل تیز کرنے کی ہدایت کردی۔رپورٹس کے مطابق امریکی نائب وزیر دفاع اسٹیو فائن برگ نے 5 اگست کو بوئنگ، لاک ہیڈ مارٹن اور آر ٹی ایکس سمیت متعدد دفاعی کمپنیوں کو خط لکھ کر نئی پیداواری حکمتِ عملی پیش کرنے کے لیے 21 دن کی مہلت دی ہے۔فائن برگ نے اپنے خط میں کہا کہ برسوں پر محیط پیداواری اوقات قابلِ قبول نہیں، اس لیے دفاعی پروگراموں کے نظام الاوقات میں فوری طور پر نمایاں تیزی لانے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے۔پینٹاگون خاص طور پر فضائی نگرانی کے آلات، فضائی دفاعی سینسرز، میزائل شکن نظام اور میزائلوں کی نگرانی سے متعلق نظام کی پیداوار اور خریداری تیز کرنا چاہتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے والے ڈرونز اور میزائلوں کو روکنے کے دوران امریکی فوجی ذخائر پر دباؤ بڑھا ہے۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں گولہ بارود کی کمی کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے پاس بڑی مقدار میں گولہ بارود موجود ہے۔ ان کے مطابق بعض ہتھیاروں کے ذخائر محدود ضرور ہیں، لیکن ان کے متبادل روزانہ پہنچ رہے ہیں۔پینٹاگون کی ترجیحات میں سیٹلائٹ مواصلات، جدید فضائی دفاعی نظام اور لاک ہیڈ مارٹن کا نیکسٹ جنریشن انٹرسیپٹر بھی شامل ہے، جس کا مقصد بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کے خلاف امریکی دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔دفاعی کمپنیوں کو اگست کے آخر تک اپنے منصوبے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جن میں پیداوار بڑھانے، ترسیل کے اوقات کم کرنے یا دونوں اقدامات کی تفصیلات شامل ہوں گی۔