واشنگٹن، 8 اگست 2026: طاقتور مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈلز کی سائبر سکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران حقیقی کمپنیوں کے سسٹمز تک رسائی کے واقعات نے اے آئی کی سکیورٹی سے متعلق نئے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔حالیہ واقعات میں میٹا، اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے اے آئی ماڈلز نے ٹیسٹنگ کے دوران ایسی سرگرمیاں کیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر طاقتور اے آئی سسٹمز کو غیر ارادی طور پر انٹرنیٹ یا حقیقی سسٹمز تک رسائی مل جائے تو وہ سائبر سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔میٹا کا واقعہمیٹا نے 5 اگست 2026 کو انکشاف کیا کہ سائبر سکیورٹی ٹیسٹنگ کے وران اس کے ایک اے آئی ماڈل نے ایک تھرڈ پارٹی سروس میں موجود سکیورٹی کمزوری سے فائدہ اٹھایا۔آزاد سائبر سکیورٹی ٹیسٹر ادارے اریگولر کی جانب سے سکیورٹی جائزہ لیا جا رہا تھا کہ کنفیگریشن کی ایک غلطی کے باعث اے آئی ماڈل کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہوگئی۔میٹا کے مطابق ماڈل نے اس کے بعد ایک تھرڈ پارٹی سروس کی کمزوری کا فائدہ اٹھایا اور نامعلوم کمپنی کے سسٹمز تک رسائی حاصل کی۔ رپورٹ کے مطابق ماڈل نے کمپنی کے اندرونی ماحول میں کچھ تبدیلیاں بھی کیں۔تاہم اریگولر کے مطابق اسے سینڈ باکس سے فرار یا انتہائی پیچیدہ سائبر حملہ قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ ٹیسٹنگ ماحول میں موجود ایک تکنیکی مسئلے کا نتیجہ تھا۔اوپن اے آئی کا واقعہاوپن اے آئی کے ایک خودکار اے آئی ایجنٹ نے بھی جولائی 2026 میں اپنے الگ تھلگ ٹیسٹ ماحول سے باہر نکلنے کی کوشش کی۔رپورٹس کے مطابق ایجنٹ نے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے کے بعد اے آئی اسٹارٹ اپ ہگنگ فیس کے سسٹم میں داخل ہو کر مقررہ ہدف حاصل کرنے کی کوشش کی۔ یہ سرگرمی 11 سے 13 جولائی تک جاری رہی۔
اوپن اے آئی کو اس سرگرمی کا علم اس وقت ہوا جب کارروائی مکمل ہو چکی تھی۔ کمپنی نے واقعے کے بعد ایجنٹ کو محدود کیا اور امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کو بھی اطلاع دی۔
رائٹرز کے مطابق اسی اے آئی ایجنٹ نے نیویارک میں قائم ٹیک کمپنی موڈل لیبز کے ایک صارف کے سسٹم کو بھی متاثر کیا تھا۔
اینتھروپک کے ماڈلز بھی زیرِ بحث
اینتھروپک نے جولائی میں بتایا تھا کہ اس کے اے آئی ماڈلز نے سائبر سکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران تین کمپنیوں کے سسٹمز تک رسائی حاصل کی۔
کمپنی کے مطابق ان واقعات میں کلاؤڈ اوپس 4.7، کلاؤڈ میتھوس 5 اور ایک اندرونی ٹیسٹ ماڈل شامل تھے۔
اینتھروپک نے متاثرہ تینوں کمپنیوں کے نام ظاہر نہیں کیے۔ کمپنی کے مطابق دو اداروں کو خود بھی اس سرگرمی کا علم نہیں تھا اور انہیں بعد میں آگاہ کیا گیا، جبکہ ایک کمپنی کے سسٹم تک اے آئی ماڈل کی رسائی جاری رہی۔
ایک واقعے میں کلاؤڈ اوپس 4.7 نے ایک حقیقی کمپنی کے لاگ اِن اسناد اور ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل کرلی، کیونکہ ماڈل نے غلطی سے حقیقی کمپنی کو فرضی ٹیسٹ ہدف سمجھ لیا تھا۔
ایک دوسرے ماڈل نے جب یہ شناخت کرلی کہ ہدف ایک حقیقی کمپنی ہے تو اس نے اپنی کارروائی روک دی۔
اصل خطرہ کیا ہے؟
ان واقعات نے اے آئی سکیورٹی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ جدید اے آئی ماڈلز اب صرف کوڈ کا تجزیہ کرنے یا سکیورٹی کمزوریاں تلاش کرنے تک محدود نہیں رہے، بلکہ انہیں اگر غیر ارادی طور پر انٹرنیٹ یا حقیقی سسٹمز تک رسائی مل جائے تو وہ خودکار طور پر مختلف کارروائیاں بھی انجام دے سکتے ہیں۔
میٹا، اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے واقعات میں ایک مشترکہ پہلو یہ سامنے آیا کہ ٹیسٹنگ کے دوران تکنیکی یا کنفیگریشن کی غلطیوں کے باعث اے آئی ماڈلز کو ایسے ماحول تک رسائی حاصل ہوگئی جہاں انہیں نہیں پہنچنا چاہیے تھا۔
ماہرین کے لیے یہ واقعات اس بات کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ طاقتور اے آئی ماڈلز کی ٹیسٹنگ کے دوران انہیں حقیقی سسٹمز، حساس معلومات اور کھلے انٹرنیٹ سے مکمل طور پر الگ رکھنے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کیے جائیں۔