دنیا کے کئی ممالک خلا میں نئے جہان اور زندگی کے امکانات تلاش کر رہے ہیں، مگر برطانیہ نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے خلا میں باقاعدہ فیکٹری قائم کر دی ہے، جہاں زمین سے سینکڑوں کلومیٹر بلندی پر پیداوار کا عمل شروع ہو چکا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ کے شہر کارڈف میں قائم کمپنی اسپیس فورج (Space Forge) نے مائیکروویو اوون کے سائز کی ایک منی فیکٹری خلا کے مدار میں بھیج دی ہے، جس نے کامیابی سے اپنی پیداوار کے ابتدائی مراحل مکمل کر لیے ہیں۔کمپنی نے نہ صرف اس خلائی فیکٹری کو مدار میں پہنچایا بلکہ اس کی بھٹی کو فعال کر کے ایک ہزار ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت حاصل کرنے کا کامیاب تجربہ بھی کر لیا ہے۔اگلے مرحلے میں اسپیس فورج کا منصوبہ ہے کہ خلا میں سیمی کنڈکٹرز کی تیاری کے لیے خصوصی مواد تیار کیا جائے، جسے بعد ازاں زمین پر لا کر الیکٹرانکس، مواصلاتی نظام، کمپیوٹنگ، 5G ٹیکنالوجی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں استعمال کیا جائے گا۔ماہرین کے مطابق خلا میں موجود بے وزنی اور ویکیوم جیسی قدرتی خصوصیات سیمی کنڈکٹرز کی تیاری کے لیے انتہائی موزوں ہیں، کیونکہ ان حالات میں ایٹمز نہایت درست ترتیب میں جڑتے ہیں اور آلودگی کا خطرہ نہ ہونے کے برابر رہتا ہے۔کمپنی کے چیف ایگزیکٹو جوش ویسٹرن کے مطابق خلا میں تیار کیے گئے سیمی کنڈکٹرز زمین پر بننے والوں کے مقابلے میں چار ہزار گنا زیادہ خالص ہو سکتے ہیں، جو الیکٹرک گاڑیوں کے چارجرز، 5G ٹاورز اور جدید طیاروں میں استعمال کے قابل ہوں گے۔اس کامیاب تجربے کے بعد اسپیس فورج اب ایک بڑی خلائی فیکٹری بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جو ایک وقت میں 10 ہزار چپس کے لیے سیمی کنڈکٹر مواد تیار کرنے کی صلاحیت رکھے گی۔واضح رہے کہ اسپیس فورج کی یہ منی فیکٹری گزشتہ موسمِ گرما میں اسپیس ایکس کے راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجی گئی تھی، جس کے بعد کارڈف میں قائم مشن کنٹرول سے اس کے مختلف نظاموں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔