**تہران (14 جولائی 2026):** سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی سے متعلق مبینہ اسرائیلی منصوبے کا حصہ تھے۔
رپورٹس کے مطابق ایک بین الاقوامی اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے محمود احمدی نژاد کو حکومت کی تبدیلی کے منصوبے کے لیے بھرتی کیا تھا اور بعد ازاں انہیں نظر بند کر دیا گیا۔تاہم احمدی نژاد کے ترجمان نے ان دعوؤں کو جھوٹا، بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ رپورٹ حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ ہالی ووڈ کی کہانی معلوم ہوتی ہے۔ ان کے بقول ایسی بے بنیاد رپورٹ کی تردید کرنا بھی ضروری نہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ محمود احمدی نژاد معمول کے مطابق اپنی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور روزمرہ کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔