کراچی کے علاقے نیپا کے قریب 3 سالہ ابراہیم کے گٹر میں گرنے کے دل خراش واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ میونسپل کمشنر گلشن اقبال ٹاؤن نے محکمہ بلدیات سندھ کو خط لکھ کر واضح کیا ہے کہ حادثے کا مقام گلشن اقبال ٹاؤن کی حدود میں نہیں آتا۔خط کے مطابق واقعہ یونیورسٹی روڈ پر پیش آیا جو کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) کے ماتحت ہے جبکہ سیوریج لائن واٹر بورڈ کی ذمہ داری ہے۔مزید بتایا گیا کہ یونیورسٹی روڈ پر ریڈ لائن بی آر ٹی اور K-4 منصوبہ زیر تعمیر ہیں، اس لیے ترقیاتی کام بھی متعلقہ ادارے دیکھ رہے ہیں۔ ٹاؤن میونسپل کارپوریشن کی رپورٹ کے نکات:TMC گلشن اقبال نے رپورٹ میں خود کو حادثے سے مکمل بری قرار دیا۔رپورٹ کے مطابق یہ مقام ڈسٹرکٹ ایسٹ یا گلشن اقبال ٹاؤن کے انتظامی دائرے میں شامل نہیں۔علاقے کا سیوریج سسٹم کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے تحت آتا ہے۔ یو سی چیئرمین کی سابقہ شکایت بھی نظراندازدستاویزات کے مطابق، 29 اکتوبر کو بی آر ٹی آفس میں ہونے والی میٹنگ میں UC-2 گلشن اقبال کے چیئرمین ریاض اظہر نے کھلے مین ہولز کے خطرے سے آگاہ کیا تھا۔انہوں نے 14 کھلے مین ہول پوائنٹس کی نشاندہی کی اور خدشہ ظاہر کیا کہ کوئی بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے، لیکن کمیٹی نے ان کی درخواست کو نظرانداز کر دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شکایت کے جواب میں کہا گیا کہ ٹھیکیدار مزید کام کرنے کو تیار نہیں، جس کے باعث مسئلہ برقرار رہا اور بڑا حادثہ پیش آگیا۔