اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے پٹوار سرکلز میں پرائیویٹ افراد کے ذریعے سرکاری کام کروانے کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد انتظامیہ پر شدید برہمی کا اظہار کیا جج نے کہا کہ آئینی عدالت بنانے کے باوجود معاملات درست نہیں ہو رہے، انتظامیہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد میں سنجیدہ نہیں سماعت کے دوران انہوں نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اور اسٹیٹ کونسل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہر کام کے لیے توہینِ عدالت کا نوٹس ضروری ہے جس ڈپٹی کمشنر کو عدالت نے سزا دی، اسے صدر کی جانب سے میڈل دیا گیا انہوں نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ اگر توہین عدالت ہوئی تو موقع دیے بغیر ہتھکڑی لگا کر جیل بھیج دوں گا جسٹس کیانی نے کہا کہ پٹواریوں کی آسامیوں کا درست اشتہار جاری نہ کرنا بدنیتی ہے، غلطی معاف ہوسکتی ہے لیکن بدنیتی نہیں انہوں نے نشاندہی کی کہ لوکل پوسٹس پر دوسرے صوبوں سے بھرتیاں کیسے کی جا سکتی ہیں جبکہ پورے ملک میں کوٹہ کا اصول واضح ہے مزید کہا گیا کہ بے ایمان افراد کے ہوتے نظام نہیں چل سکتا۔ لوکل باڈیز انتخابات نہ کروانا بھی بے ایمانی ہے شاملات کی زمین کی تقسیم کے بغیر ہاؤسنگ سوسائٹی نہیں بن سکتی، اگر کام رکا تو جنہوں نے پلاٹ لیے ہیں وہ متاثر ہوں گے عدالت نے انتظامیہ کو حکم دیا کہ پٹواریوں کی آسامیوں کا درست اور قانون کے مطابق اشتہار دوبارہ جاری کیا جائے اور آئندہ سماعت پر عدالت میں جمع کرایا جائے کیس کی مزید سماعت اگلے ماہ تک ملتوی کر دی گئی۔