سکھر سندھ ریزرو پولیس میں قواعد و ضوابط کے برعکس مبینہ بھرتیوں کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی جس میں عدالت نے آئی جی سندھ سمیت دیگر متعلقہ حکام کو 9 دسمبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیاتفصیلات کے مطابق خیرپور سکھر شکارپور اور لاڑکانہ کے متاثرہ امیدواروں جن میں جاوید علی شر، عبدالجبار سانگی دھن بخش نصیرانی، آصف ابڑو سمیت دیگر شامل ہیں کی جانب سے بھرتیوں میں بے ضابطگیوں پر مبنی درخواستیں دائر کی گئی تھیں درخواست گزاروں کے وکیل عالم شیر بوزدار نے عدالت کو بتایا کہ 2018 میں سندھ ریزرو پولیس میں کانسٹیبل بھرتیوں کے لیے اشتہار جاری ہوا تھا، جس کے مطابق امیدواروں سے تحریری، فزیکل اور زبانی ٹیسٹ لیا گیا تھا انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بھرتی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بعض پسندیدہ امیدواروں کو والدین کی 25 سالہ سروس کی بنیاد پر 15 اضافی نمبر دیے گئے، جبکہ اشتہار میں کہیں بھی اضافی نمبروں کا ذکر موجود نہیں تھا کیل نے کہا کہ یہ عمل شفافیت کے خلاف ہے اور اہل امیدواروں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد آئی جی سندھ، اور دیگر فریقین کو 9 دسمبر کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔