77 سال بعد شوگر انڈسٹری کی ڈی ریگولیشن، چینی کی قیمتیں اب مارکیٹ طے کرے گی

وفاقی حکومت نے 77 سال بعد ملک میں شوگر انڈسٹری پر حکومتی کنٹرول ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہےوزارت غذائی تحفظ کی سمریوزارتِ غذائی تحفظ کے ذرائع کے مطابق شوگر انڈسٹری کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کرنے کی سمری تیار کرلی گئی ہے، جو رواں ہفتے وزیر اعظم کو پیش کی جائے گیوزیر کی پیشکشوفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ رانا تنویر حسین یہ سمری وزیر اعظم کو پیش کریں گے، جس میں نئی شوگر ملز لگانے پر پابندی ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہےڈی ریگولیشن کے اثراتحکومت کا چینی کی درآمد و برآمد کا اختیار ختم ہو جائے گاقیمتوں کا سرکاری تعین ختم ہوگا، چینی کی قیمتیں اوپن مارکیٹ کے مطابق طے ہوں گیعوامی مشکلاتملک بھر میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عوام کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہی ہیںکراچی میں چینی 180 سے 190 روپے فی کلوفیصل آباد اور سکھر میں قیمت 200 روپے فی کلو تکلاہور سمیت دیگر شہروں میں قیمتوں میں مسلسل ضافہ
شہری ردعملشہری مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کرے تاکہ روزمرہ استعمال کی یہ بنیادی ضرورت عام آدمی کی پہنچ میں رہے۔