شام کے علاقے سویدا میں دروز قبائل اور شامی سرکاری افواج کے درمیان ایک بار پھر لڑائی چھڑ گئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق فریقین کے درمیان کئی گھنٹوں تک جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا، جس میں ہلکے ہتھیاروں، مارٹرز اور ڈرونز کا استعمال کیا گیادروز قبائل کے سربراہ شیخ حکمت الہجری نے الزام عائد کیا ہے کہ شامی سرکاری فورسز کی کارروائیاں علاقے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی ملیشیا نے سرکاری فورسز کا حملہ پسپا کرتے ہوئے انہیں جانی نقصان پہنچایا ہےشامی حکومت کی جانب سے اس صورتحال پر تاحال کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا
دوسری جانب صنعتی علاقے میں زور دار دھماکوں کے بعد آگ بھڑک اٹھنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم اس کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیںواضح رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ وہ شام کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔ یہ بیان انہوں نے احمد الشرع سے ملاقات کے بعد دیا، جو ماضی میں القاعدہ کے کمانڈر رہ چکے ہیں اور جن پر پہلے امریکا نے غیر ملکی دہشت گردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد کر رکھی تھیںشامی صدر سے گفتگو کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ انہیں شامی صدر پسند آئے ہیں اور وہ مشرقِ وسطیٰ میں ستحکام کے لیے شام کی کامیابی کے خواہاں ہیں۔