27ویں آئینی ترمیم کی تفصیلات سامنے آگئیں وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی شق شامل

ایوانِ بالا (سینیٹ) سے منظور ہونے والے 27ویں آئینی ترمیمی بل میں شامل نئی ترامیم کی تفصیلات سامنے آگئی ہیںذرائع کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے بل میں مجموعی طور پر 8 ترامیم کی گئی ہیں جن میں 4 حذف اور 4 نئی ترامیم شامل کی گئی ہیںآئین کے آرٹیکل 6 کی شق 2 اے میں لفظ “وفاقی آئینی عدالت” کا اضافہ کیا گیا ہے، جب کہ آرٹیکل 10 میں گرفتاری و حراست سے متعلق ضوابط کے تحت نظرِ ثانی بورڈ کے قیام کی شق میں تبدیلی کی گئی۔ پہلے یہ شق چیف جسٹس پاکستان کے تحت تھی، تاہم نئے بل میں اصطلاح “سپریم کورٹ آف” داخل کی گئی ہےآرٹیکل 176 کے مطابق موجودہ چیف جسٹس آئین کے تحت چیف جسٹس پاکستان کہلائیں گے، اور موجودہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے دورانیے کے لیے یہ لقب برقرار رہے گانئے قانون کے تحت وفاقی آئینی عدالت کا قیام آئین میں شامل کر لیا گیا ہے، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ کے بعض آئینی اختیارات اس نئے ادارے کو منتقل کیے جا سکتے ہیںگزشتہ روز وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں سینیٹ سے منظور شدہ ترامیم میں بعض شقوں کی واپسی کی ترمیم پیش کیوفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سینیٹ سے منظور شدہ 27ویں آئینی ترمیمی بل 2025 کی شق 4 کو حذف کیا جائے، کیونکہ اس میں چیف جسٹس کے عہدے سے متعلق ابہام موجود تھاان کا کہنا تھا کہ ترمیم کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ بحال رہے گا اور جسٹس یحییٰ آفریدی ہی چیف جسٹس آف پاکستان رہیں گےمزید یہ کہ دونوں عدالتوں (سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت) میں سے جو چیف جسٹس سینئر ہوں گے، وہ کمیشن کے چیئرمین ہوں گے۔