افغانستان کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرے تو پاکستان تعاون کیلئے تیار ہے وزیر اعظم شہباز شریف

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر افغانستان کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کرے تو پاکستان مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے معزز اسپیکرز، پارلیمنٹیرینز اور شرکا کو خوش آمدید کہا اور امن و سلامتی کے موضوع پر اس اجتماع کو پاکستان کے لیے باعثِ فخر قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ امن و استحکام ہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے، پاکستان نے خود بھی کئی بار دہشت گردی اور امن دشمن کارروائیوں کا سامنا کیا۔ ہم جانتے ہیں کہ ترقی صرف اس معاشرے میں ممکن ہے جہاں امن و سلامتی ہو۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ قومی استحکام اور دفاعِ وطن میں عزم و استقلال کا مظاہرہ کیا ہے۔ دنیا میں جاری تنازعات نے امن کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بات چیت میں تعاون پر برادر ممالک کو سراہتے ہیں، شدت پسند گروہ افغانستان اور خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری مسلح افواج نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے دشمن کے عزائم ناکام بنائے ہیں۔ پاکستان نے دنیا کو دکھایا ہے کہ اپنی خودمختاری اور سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر قیمت ادا کرے گا۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر مالیاتی اصلاحات پر کام کر رہا ہے، کیونکہ کوئی بھی ملک تنہا ترقی نہیں کرسکتا۔ پائیدار ترقی کے لیے امن و استحکام ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جامع اصلاحات نافذ کی ہیں، سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری آسانی اور ماحولیاتی استحکام کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے خواہش ظاہر کی کہ دنیا کے تمام ممالک امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے متحد ہوں۔