اقوام متحدہ نے افغانستان میں خواتین کی ابتر صورتحال پر اپنی سہ ماہی رپورٹ جاری کر دی۔اقوام متحدہ کی معاونت مشن (یوناما) کی رپورٹ جولائی سے ستمبر 2025 کے دوران افغانستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور خواتین پر جاری مظالم پر مبنی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان نے خواتین پر سفر، تعلیم اور روزگار کی پابندیاں بدستور برقرار رکھی ہوئی ہیں۔یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ 2023 میں اقوام متحدہ کے دفاتر میں افغان خواتین کے داخلے پر عائد پابندی اب تک ختم نہیں کی گئی۔اسی طرح 2022 سے خواتین اور لڑکیوں پر تعلیمی پابندیاں بدستور جاری ہیں، اور کئی صوبوں میں مدارس بھی بند کر دیے گئے ہیں۔یوناما کے مطابق بدخشاں، پکتیکا اور کابل کے متعدد مدارس کو جدید اور عصری مضامین پڑھانے کی وجہ سے بند کر دیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ 2024 میں طالبان نے میڈیکل اور ڈینٹسٹری تعلیم مکمل طور پر معطل کر دی، اور یہ پابندی اب بھی نافذ ہے۔مزید بتایا گیا کہ کئی اضلاع میں خواتین کو علاج کے لیے مرد طبی عملے کے پاس جانے پر “محرم” کی شرط عائد ہے۔سہ ماہی رپورٹ کے مطابق معمولی سرزنش پر 456 بلاجواز گرفتاریاں اور 44 ناروا سلوک کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری کو افغان خواتین کی حالتِ زار پر جہ دینے اور اس کے تدارک کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔