اسلام آباد 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس کی منسوخی کی بڑی وجہ پیپلز پارٹی کی جانب سے ترمیم پر حتمی مؤقف اختیار نہ کرنا ہے۔تفصیلات کے مطابق آج کابینہ اجلاس میں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری دی جانی تھی، جس کے بعد اسے سینیٹ میں ضمنی ایجنڈے کے طور پر پیش کیا جانا تھا۔تاہم پیپلز پارٹی کے اختلافات کے باعث اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے صوبوں کے حصے سے متعلق ترمیمی تجاویز کو مسترد کر دیا ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سی ای سی اجلاس کے بعد کہا تھا کہ”پارٹی این ایف سی فارمولے میں کسی تبدیلی کی حمایت نہیں کرتی اور ویں ترمیم سے متعلق دیگر حکومتی تجاویز بھی قبول نہیں”بلاول بھٹو کے مطابق حکومت نے آرٹیکل 243 میں تبدیلیاں لانے اور نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کے لیے نیا عہدہ متعارف کرانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے،جو مبینہ طور پر جنگ کے بعد ’’فیلڈ مارشل جیسے نئے عہدے سے متعلق ہے پیپلز پارٹی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کا اجلاس نمازِ جمعہ کے بعد دوبارہ طلب کر لیا گیا ہے تاکہ ترمیم کے مسودے پر حتمی مؤقف طے کیا جا سکےدوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں نمبر گیم مکمل ہے،حکومت کو ایوانِ بالا کے 96 ارکان میں سے 65 کی حمایت حاصل ہے، حتیٰ کہ جے یو آئی (ف) کے بغیر بھی۔آئینی تقاضوں کے مطابق ترمیمی بل کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں 224 اور نیٹ میں 64 ووٹ درکار ہوں گے۔بل پر بحث کے بعد اسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا،اور دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹیوں میں منظوری کے بعد ہفتہ یا اتوار کو دوبارہ پیش کیے جانے کا امکان ہےترمیمی بل کی منظوری کے بعد اسے صدرِ مملکت کے دستخط کے لیے ارسال کیا جائے گا،اور اگر ترمیم صوبائی اختیارات سے متعلق ہوئی تو اسے کم از کم نصف صوبائی اسمبلیوں سے منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگی۔