وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیرِ صدارت ملائیشیا کو گوشت کی برآمد سے متعلق وزیر اعظم کی کمیٹی کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں کمیٹی کے تحت قائم چار ورکنگ گروپس نے اپنی رپورٹس پیش کیںمیٹی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس مضبوط لائیو اسٹاک بیس اور حلال گوشت کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ ساکھ موجود ہے، تاہم اس شعبے کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں چھوٹے جانوروں کی کمی، فیڈ لاٹ فنشنگ نظام کا فقدان، کولڈ چین کی کمزوری، اور جدید سلاٹرنگ ٹیکنالوجی کی کمی شامل ہیں۔ہارون اختر خان نے اجلاس میں کہا کہ گوشت کی برآمدات کے فروغ کے لیے معیار، تسلسل اور مسابقت میں بہتری لانا ناگزیر ہے۔کمیٹی نے سفارش کی کہ جانوروں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ، جدید سلاٹرنگ اور پراسیسنگ ٹیکنالوجی کا استعمال، مستحکم حلال سرٹیفکیشن نظام، اور لاجسٹکس کو عالمی معیار کے مطابق مضبوط بنانا ضروری ہے۔ہارون اختر خان نے کہا کہ لائیو اسٹاک کا شعبہ دیہی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے اور ملک بھر میں 1 کروڑ 20 لاکھ سے زائد گھرانے مویشی پالنے سے وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق ’’دیہی خاندان اپنی آمدنی کا 35 سے 40 فیصد حصہ مویشیوں سے حاصل کرتے ہیں۔‘انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برآمد کنندگان زیادہ تر منجمد (فروزن) گوشت برآمد کرتے ہیں، جس سے لاگت کم اور منڈیوں تک رسائی زیادہ ہوتی ہے، تاہم پاکستان کے جانوروں کی جسامت اور پیداوار بڑے برآمد کنندگان کے مقابلے میں کم ہے۔ہارون اختر خان نے بتایا کہ پاکستان میں فروزن اور ڈیبونڈ بیف کی پراسیسنگ کی صلاحیت محدود ہے، لہٰذا پراسیسنگ، کولڈ چین، اور ایکسپورٹ ریڈی سسٹمز میں بہتری لانا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بھینس کے گوشت کی برآمد کے فروغ کے لیے مراعات دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔اجلاس کے اختتام پر ہارون اختر خان نے اعلان کیا کہ ملائیشیا کو گوشت کی برآمد بڑھانے کے لیے ایک جامع بزنس ماڈل تیار کر کے وزیر اعظم کو منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔