ایک نئی سائنسی تحقیق سے حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ چیونٹیاں بھی بیماری کی صورت میں انسانوں کی طرح سماجی فاصلے جیسی احتیاطی تدابیر اختیار کرتی ہیں۔ جریدہ سائنس میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق سیاہ بڑی چیونٹیاں (Lasius niger) بیماری پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر اپنے بلوں کی بناوٹ اور راستوں میں تبدیلی کر لیتی ہیں تاکہ جراثیم کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔تحقیق کے سربراہ لوک لیکی کے مطابق یہ چیونٹیاں مٹی کے درجہ حرارت اور ساخت کے مطابق بل کی تعمیر کا انداز بدلنے کے لیے مشہور ہیں، لیکن بیماری کے دوران ان کا رویہ خاص طور پر حیران کن ہوتا ہے۔
محققین نے تھری ڈی اسکیننگ مائیکرو سی ٹی ٹیکنالوجی سے 180 چیونٹیوں کے دو گروپوں کا مشاہدہ کیا۔ ان میں سے ایک گروپ کو فنگس کے جراثیم کے سامنے رکھا گیا، جس کے بعد چھ دن تک ان کے بلوں کا تفصیلی اسکین کیا گیا۔تائج سے معلوم ہوا کہ متاثرہ چیونٹیوں نے اپنے بلوں کے داخلی راستے اوسطاً 6 ملی میٹر زیادہ فاصلے پر بنا لیے، اور بلوں کے اندر لمبے، پیچیدہ راستے اور متبادل سرنگیں کھودیں تاکہ چیونٹیاں ایک دوسرے سے کم رابطہ رکھ سکیں۔سائنسدانوں کے مطابق اس خود ساختہ سماجی فاصلے کے باعث بیماری کے پھیلاؤ میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ یہ انکشاف ظاہر کرتا ہے کہ قدرت نے چیونٹیوں جیسے سماجی حشرات کو بھی اجتماعی بقا کے لیے غیر معمولی حکمتِ عملیوں سے نوازا ہے۔