اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت آڈیو لیک کیس میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم ثاقب اور سابق خاتونِ اوّل بشریٰ بی بی کا آڈیو لیک کیس جسٹس بابر ستار کی عدالت سے جسٹس اعظم خان کی عدالت کو منتقل کر دیا گیا ہے۔منتقلی کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ جسٹس بابر ستار کا سنگل بینچ ختم ہو گیا تھا، جس کے باعث کیس دوسری عدالت کو بھیج دیا گیا۔اب یہ مقدمہ 4 نومبر کو جسٹس اعظم خان کی عدالت میں سماعت کے لیے مقرر ہے۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے آڈیو لیک کیس میں حکمِ امتناع جاری کر رکھا ہے، جس کے تحت ہائی کورٹ کو مزید کارروائی سے روک دیا گیا تھا۔بشریٰ بی بی اور نجم ثاقب نے اپنے خلاف آڈیو لیکس کے معاملے پر الگ الگ درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔واضح رہے کہ 29 اپریل 2023 کو سابق چیف جسٹس کے صاحبزادے نجم ثاقب کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آئی تھی، جس میں وہ پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ابوذر چدھڑ سے پارٹی ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے۔آڈیو میں ابوذر چدھڑ کہتے ہیں کہ “آپ کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں”، جس پر نجم ثاقب جواب دیتے ہیں “مجھے انفارمیشن آگئی ہے۔” بعد ازاں وہ ٹکٹ چھپوانے اور جلدی کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔