اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے لیے 27ویں آئینی ترمیم کا مطالبہ کر دیا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے کہا کہ سیاسی اور آئینی پیچیدگی کے باوجود مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 140-اے مقامی حکومتوں کے وجود کو لازمی قرار دیتا ہے، مگر بدقسمتی سے ہر نئی حکومت نے بلدیاتی نظام کو ختم کیا۔انہوں نے کہا کہ “یہ قرارداد اس سمت میں ایک اہم پیشرفت ہے تاکہ بلدیاتی اداروں کو آئینی اور مالی خودمختاری دی جا سکے۔”اسپیکر پنجاب اسمبلی نے تجویز دی کہ آئین میں ایک نیا باب شامل کیا جائے جو لوکل گورنمنٹ کے نظام کو تحفظ دے، بالکل اسی طرح جیسے نیشنل فنانس کمیشن (NFC) کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ملک محمد احمد خان نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ مقامی حکومتوں کے قیام اور استحکام پر کھل کر بات کریں۔ “پنجاب اسمبلی آئین میں ترمیم نہیں کر سکتی، یہ اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے، مگر اگر ستائیسویں ترمیم کرنی پڑے تو فوراً کی جائے۔”انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 77 سالوں میں سے 50 سال ایسے گزرے جن میں مقامی حکومتیں فعال نہیں تھیں، “جب لوکل کونسل ہی نہیں ہوگی تو عوام کے مسائل کیسے حل ہوں گے؟”
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں بلدیاتی اداروں کا غیر فعال ہونا ریاستی نظام پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ پیپلز پارٹی، جے یو آئی اور پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتیں آرٹیکل 140-A کی اہمیت کو تسلیم کریں گی۔آخر میں انہوں نے کہا کہ “اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا عوامی خدمت کا بہترین راستہ ہے، ستائیسویں ترمیم وقت کی ضرورت ہے۔”