وفاقی دارالحکومت کے جڑواں شہر راولپنڈی اور اس کے مضافاتی علاقوں میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کر دی گئی ہیں۔ پولیس نے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر غیر قانونی افغان شہریوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ ان مکان مالکان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جا رہی ہے جنہوں نے حکومتی پابندی کے باوجود اپنے مکانات ان افراد کو کرائے پر دے رکھے تھے۔پولیس ذرائع کے مطابق راولپنڈی کے مختلف تھانوں کی حدود میں الگ الگ مقدمات درج کیے گئے ہیں جن میں مکان مالکان پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو رہائش فراہم کی۔ یہ مقدمات تھانہ مورگاہ، تھانہ جاتلی اور تھانہ واہ کینٹ میں درج کیے گئے، جن میں ملوث افراد کے خلاف فارم ایکٹ اور پنجاب انفارمیشن آف ٹمپریری ریزیڈنٹس ایکٹ 2015 کی شق 11 کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔مقدمات میں افغان باشندوں زاہد خان اور محمد امین کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے پاس ویزا، اجازت نامہ یا مصدقہ دستاویزات موجود نہیں تھیں، جبکہ مکان مالکان اظہر محمود اور چوہدری عادل نے کرایہ داری کا اندراج نہیں کروایا۔ پولیس حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی مقیم شخص کو مکان یا کمرہ کرائے پر دینے سے گریز کریں، بصورتِ دیگر ان کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔