چین کا نیا اے آئی سسٹم، دشمن آبدوزوں کے امکانات صرف 5 فیصد رہ گئے

چین نے دشمن آبدوزوں کا سراغ لگانے والا جدید آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) سسٹم تیار کر لیا ہے جس کے بعد آبدوزوں کی بقا کے امکانات انتہائی کم، صرف 5 فیصد رہ جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ سسٹم چینی بحری بیڑے کو مزید طاقتور بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کا کہنا ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی بحری جنگ (نیول وارفیئر) کے پورے منظرنامے کو بدل سکتی ہے۔چینی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ سسٹم ہائیڈرو آکوسٹک بوائز، انڈر واٹر سینسرز اور ریڈارز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو پروسیس کرتا ہے۔ مزید برآں، یہ سمندری درجہ حرارت اور نمکیات (Salinity) کو بھی مدنظر رکھ کر ایک جامع نقشہ بناتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اے آئی سسٹم روایتی آبدوزوں کے تمام بچاؤ کے حربے ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ڈیٹا کو فوری طور پر ایکشن ایبل ریکمنڈیشنز میں بدل دیتا ہے تاکہ فیصلہ سازی تیزی سے ممکن ہو سکے۔عالمی دفاعی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں نیوکلیئر ڈیٹرنس کے بنیادی ستون کو بھی غیر مؤثر بنا سکتی ہے، کیونکہ آبدوزوں کی حکمتِ عملی دفاعی اور جارحانہ صلاحیت کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔