اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ: اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی تصدیق

اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کی کارروائیاں کیں۔ رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو سمیت اعلیٰ اسرائیلی حکام نے اس مہم کی حوصلہ افزائی کی۔روئٹرز کے مطابق تحقیقاتی کمیشن نے نسل کشی کے ثبوت کے طور پر فلسطینیوں کی بڑی تعداد میں شہادتیں، امداد کی روک تھام، جبری نقل مکانی، اور طبی مراکز کے تباہ ہونے کے شواہد پیش کیے۔ انسانی حقوق کے گروپوں نے بھی رپورٹ کی حمایت کی۔کمیشن کی سربراہ اور سابق بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جج نوید پلے نے کہا کہ غزہ میں نسل کشی ہو رہی ہے اور اس کی ذمہ داری اسرائیلی حکام پر عائد ہوتی ہے جو حماس کو ختم کرنے کے لیے دو سال سے مخصوص ارادے کے تحت نسل کشی کی مہم چلا رہے ہیں۔اسرائیل نے تحقیقاتی کمیشن کے ساتھ تعاون سے انکار کیا اور جنیوا میں اپنے سفارتی مشن کے ذریعے کمیشن پر سیاسی ایجنڈا رکھنے کا الزام لگایا۔ رپورٹ 72 صفحات پر مشتمل ہے اور اقوام متحدہ کی جانب سے اب تک کا سب سے مضبوط نتیجہ ہے، تاہم ادارے نے سرکاری طور پر “نسل کشی” کا لفظ استعمال نہیں کیا۔کمیشن نے اسرائیل پر چار بڑے جرائم کی نشاندہی کی:قتل شدید جسمانی یا ذہنی نقصان پہنچانا جان بوجھ کر ایسی حالات زندگی مسلط کرنا جو فلسطینیوں کی جزوی یا مکمل تباہی کا باعث ہوں پیدائش کو روکنے کی تدابیر نافذ کرنا شواہد کے طور پر متاثرین، گواہوں، ڈاکٹروں کے انٹرویوز، تصدیق شدہ اوپن سورس دستاویزات اور جنگ کے بعد سے تیار شدہ سیٹلائٹ تصاویر استعمال کی گئی ہیں۔اسرائیل اس رپورٹ کو مسترد کرتا ہے اور 7 اکتوبر 2023 کے حماس کے حملے کے بعد اپنے دفاع کا حق بیان کرتا ہے۔