اسرائیل کے قطر پر حالیہ حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر نہ صرف امریکا بلکہ خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں کا اہم شراکت دار ہے، اس لیے اسرائیل کو احتیاط برتنی چاہیے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یروشلم پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ امریکی صدر نے واضح کیا کہ حماس کے خلاف کارروائیاں اگرچہ ضروری ہیں لیکن اسرائیل کو سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوگا کیونکہ ایسے اقدامات امن عمل اور مشترکہ مفادات کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔دوسری جانب عرب اسلامی وزرائے خارجہ مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قطری وزیراعظم نے اسرائیلی حملے کی سخت مذمت کی اور کہا کہ یہ کارروائی اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے قطر کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے قانونی اقدامات اٹھانے پر زور دیا۔قطری وزیراعظم نے کہا کہ فلسطینی عوام کی جبری بیدخلی کی سازش کامیاب نہیں ہوگی، اسرائیل کی نسل کش جنگ جھوٹے جواز کے باوجود ناکام ہوگی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل نے امن تجاویز مسترد کر کے خطے میں جنگ کو مزید پھیلا دیا ہے، جس سے نہ صرف خطے کی اقوام بلکہ خود اسرائیلی عوام بھی سنگین خطرات سے دوچار ہوں گے۔ادھر ایران نے بھی سخت ردعمل دیا اور کہا کہ “اجلاسوں اور بیانات سے اسرائیل کا کچھ نہیں بگڑے گا، اسے عملی طور پر جوابدہ بنانا ہوگا۔”