برطانوی وزیر اعظم کا اعلان: برطانوی پرچم تشدد اور تقسیم کی علامت نہیں بنے گا

برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانوی پرچم تشدد یا تقسیم کی علامت بنانے والوں کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ لندن میں دائیں بازو کے اینٹی امیگریشن مارچ کے بعد ٹوئیٹ کرتے ہوئے اسٹارمر نے کہا کہ احتجاج کرنا سب کا حق ہے، مگر کسی کو پولیس پر تشدد کرنے یا سڑکوں پر خوفزدہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ہفتے کو دائیں بازو کے مظاہرے کے دوران دو پولیس افسر زخمی اور 25 مظاہرین گرفتار ہوئے تھے۔دوسری جانب، امریکا اور برطانیہ رواں ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے سرکاری دورے کے دوران ٹیکنالوجی اور سول نیوکلیئر انرجی کے معاہدوں کا اعلان کریں گے۔ صدر ٹرمپ اور اہلیہ میلانیا کو برطانیہ میں شاہی تقریبات کے ذریعے خوش آمدید کہا جائے گا، جن میں شاہی بگھی میں سیر، سرکاری ضیافت، فوجی طیاروں کی پرواز اور توپوں کی سلامی شامل ہیں۔برطانیہ کو امید ہے کہ وہ اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد ٹیرف پر حتمی معاہدہ کرے گا اور یوکرین سمیت دیگر معاملات پر امریکا کے ساتھ قریبی تعاون بڑھائے گا۔ اسٹارمر کے ترجمان کے مطابق دورے کے دوران دونوں ممالک ٹیکنالوجی شراکت داری اور سول نیوکلیئر معاہدے پر دستخط کریں گے، اور برطانیہ-امریکا تعلق دنیا کے مضبوط ترین تعلقات میں شمار ہوتا ہے۔