پرووینشیل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سندھ (پی ڈی ایم اے) نے گڈو بیراج پر 14 سے 15 ستمبر تک اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کیا ہے۔پی ڈی ایم اے سندھ کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے چیئرمینز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ الرٹ رہیں اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق، تمام متعلقہ ادارے اور اسٹیک ہولڈرز حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں۔ ارین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل نے بتایا ہے کہ گڈو بیراج پر پانی کے بہاؤ میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔محکمہ اطلاعات کے مطابق موجودہ صورتحال کچھ یوں ہے:گڈو بیراج: آمد 561,205 کیوسک، اخراج 2,072 کیوسک سکھر بیراج: آمد 472,320 کیوسک، اخراج 422,400 کیوسک کوٹری بیراج: آمد 271,214 کیوسک، اخراج 261,399 کیوسک پی ڈی ایم اے پنجاب کے عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ سپر فلڈ کے باعث پنجاب کے 28 اضلاع متاثر ہوچکے ہیں۔ بہاولپور میں بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دریائے چناب اور راوی کے ریلے ملتان کو متاثر کر رہے ہیں، جب کہ جلالپور پیروالا اور شجاع آباد میں خطرہ کم ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ گڈو بیراج پر پانی تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس سے سندھ میں ساڑھے 7 لاکھ کیوسک پانی داخل ہوگا۔ صوبے کے 4,744 مواضع پہلے ہی زیر آب آچکے ہیں۔پنجاب میں سیلاب سے 45 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے، جن میں سے 25 لاکھ سے زیادہ کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ 20 لاکھ سے زائد جانور بھی محفوظ کیے گئے۔ پنجاب میں سیلاب سے اب تک 101 افراد جاں بحق اور 9 زخمی ہوچکے ہیں۔