اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی پر حملے تیز کر دیے ہیں جس کے نتیجے میں کئی بلند و بالا عمارتیں زمیں بوس ہو گئیں۔ اسرائیل کا الزام ہے کہ حماس نے ان عمارتوں میں نگرانی کا سامان نصب کر رکھا تھا، اور فوج مقامی افراد سے شہر خالی کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اسرائیل غزہ کو حماس کا گڑھ قرار دیتا ہے۔تفصیلات کے مطابق اسرائیلی فوج مسلسل بمباری کر رہی ہے اور فضا، زمین اور سمندر سے آبادیوں پر حملے کر رہی ہے تاکہ غزہ شہر کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا جائے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پبلک پراسیکیوشن کی عمارت پر تین فضائی حملے کیے گئے جس سے پوری عمارت تباہ ہو گئی۔ یہ عمارت غزہ شہر کے جنوب مغربی علاقے میں واقع تھی۔ اس کے علاوہ ایک رہائشی ٹاور اور تین شیلٹرز بھی مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ صبح سے اب تک 20 سے زائد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔غزہ کے طبی ذرائع کے مطابق ہفتے کو ہونے والے حملوں میں کم از کم 32 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 12 بچے شامل ہیں۔مزید اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج شہر میں زمینی پیش قدمی کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ شہر گنجان آباد ہونے کے باوجود ہزاروں رہائشی اسرائیل کے انتباہات کے باوجود موجود ہیں۔یہ صورت حال غزہ میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے اور بین الاقوامی برادری کی تشویش بڑھا رہی ہے۔