پی ٹی آئی کا قافلہ ڈی چوک پہنچ گیا، مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس کی شدید شیلنگ،فوج نے کنٹرول سنبھال لیا

خیبرپختونخوا سے آنے والا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا قافلہ اسلام آباد میں 26 نمبر چونگی سے زیرو پوائنٹ اور اب ڈی چوک پہنچ گیا ہے جہاں پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شدید شیلنگ جاری ہے جب کہ کارکنان کی طرف سے پتھراؤ کیا جا رہا ہے۔ وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں تحریک انصاف کا احتجاجی قافلہ داخل ہوچکا ہے، کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ جاری ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں 4 رینجرز اہلکاروں کی شہادت کے بعد پاک فوج کو طلب کرلیا گیا ہے، سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج کو آرٹیکل 245 کے تحت طلب کیا گیا ہے اور انہیں شرپسندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے احکامات دے دیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کو انتشاریوں اور شرپسندوں کو موقع پر گولی مارنے کے واضح احکامات دے دیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع نے مزید کہا کہ انتشار پسند اور دہشت گرد عناصر کی جانب سے کسی بھی قسم کی دہشت گردانہ کارروائی سے نمٹنے کے لیے تمام اقدامات بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے آبپارہ مارکیٹ اور سپر مارکیٹ بند کروا دیں، خیابان سہروردی سے آبپارہ تک سڑکوں سے گاڑیاں بھی ہٹوا دی گئیں۔ ڈی چوک سے ملحقہ بلیو ایریا میں بھی دکانیں اور سروس روڈ سے گاڑیاں ہٹوا دی گئیں۔ کنٹنیرز کے اوپر بھی پاک فوج کے اہلکاروں نے پوزیشن سنبھال لی ہے جبکہ میڈیا ٹیمز اور ڈی ایس این جیز کو ڈی چوک سے نکال دیا گیا۔ مسجد سے اعلانات کیے جا رہے ہیں کہ احتجاج سب کا حق ہے لہٰذا توڑ پھوڑ نہ کریں اور لوگوں کو نقصان نہ پہنچائیں، پرامن رہیں، قانون کو ہاتھ میں لینے پر کارروائی کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا ایک دور منسٹر انکلیو میں ہوا، پی ٹی آئی کی جانب سے چیئرمین بیرسٹر گوہر، شبلی فراز، اسد قیصر شریک ہوئے، حکومتی ٹیم میں محسن نقوی، ایاز صادق، رانا ثنااللہ اور امیر مقام نے بات چیت میں حصہ لیا۔ مذاکرات میں ممکنہ طور پر پشاور موڑ کو دھرنا پوائنٹ قرار دینے کی تجویز پر غور کیا گیا جب کہ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کے مطابق پی ٹی آئی کوسنگجانی کےمقام پر احتجاج کرنے کی پیش کش کی گئی