جمیعت علماء اسلام ف کے مرکزی رہنماء حافظ حمداللہ نے کہا ہے کہ اب بشری بی بی کس کیلئے دوست اسلامی ملک سے این ار او مانگ رہی ہیں، کیا عمران خان کی سزا معطلی بشری بی بی کی ملاقاتوں کا نتیجہ تو نہیں؟ عمران خان ملک سے باہر جانے کو بھی تیار ہے۔ انہوں نے مائیکروبلاگنگ کی ویب سائٹ پر اپنے ردعمل میں کہا کہ سیاسی مخالفین کو این اراو کا طعنہ دینے والا عمران خان تھوڑا سا اپنی اہلیہ کی طرف نظرڈال کر بھی دیکھے، اب بشری بی بی کس کے لیے دوست اسلامی ملک سے این ار او مانگ رہی ہیں۔
کیا عمران خان کی سزا معطلی بشری بی بی کی ملاقاتوں کا نتیجہ تو نہیں؟ گزشتہ روز ایک تحقیقاتی صحافی کی خبر نے عمران خان کا اصل چہرہ قوم کے سامنے بےنقاب کیا تھا، بشری بی بی اسلام اباد کے فائیو اسٹار ہوٹل میں اسلامی ملک کی اہم شخصیت سے کیوں ملی؟ بشری بی بی نے اس اہم شخصیت کو یہ بھی کہا کہ عمران خان ملک سے باہر جانے کو تیار ہے، آج میں ساری قوم کو بتا دوں عمران خان اب باہر جانے کے لیے منتیں کررہا ہے دوسری جانب میڈیا رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطلی کا 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے، تحریری فیصلہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے جاری کیا۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ کی سنائی گئی3 سال قید ایک لاکھ جرمانے کی سزا معطل کی جاتی ہے، ٹرائل کورٹ نے الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن کی شکایت پر سز اکا فیصلہ سنایا سزا معطلی کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے قائم علی شاہ کیس کا بھی حوالہ دیا گیا۔ اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے قراردیا کہ سزا دینا یا انکار کرنا اسلام آباد ہائیکورٹ کی صوابدید ہے، عدالت سمجھتی ہے کہ درخواستگزار سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کا حق دار ہے،اس کیس میں دی گئی سزا کم دورانیئے کی ہے، سزا معطلی کی درخواست منظور کرکے 5 اگست کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کیا جاتا ہے ۔ درخواستگزار کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے پر ضمانت پر رہا کردیا جائے۔