پی ٹی آئی دور کے آئی ایم ایف معاہدے سے بجلی کی قیمت میں بار بار اضافہ ہوا

مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء سابق وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی دور کے آئی ایم ایف معاہدے سے بجلی کی قیمت میں بار بار اضافہ ہوا، 2019 کے آئی ایم ایف معاہدے سے حکومت کا کرنسی پر کنٹرول ختم ہوگیا، پی ٹی آئی حکومت کی نااہلی سے بجلی کی قیمت میں مستقل اضافہ ہوتا رہا، ماضی کی طرح مہنگائی کم کریں گے اور بجلی سستی کریں گے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکالنے میں مسلم لیگ ن کا ریکارڈ شاندار ہے، 2013 میں منتخب ہونے والی مسلم لیگ (ن) حکومت نےمحمد نواز شریف کی سربراہی میں پاکستان کو بجلی اور گیس کے بحران سے نکالا اور اپنے دور حکومت میں ہی بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کی آج کی مہنگائی کا ذمہ دار ججوں کا نثاری ٹولہ ہے جس نے 2017 میں نواز شریف کو نا اہل کر کے پاکستان کے معاشی استحکام اور جمہوریت پر کاری ضرب لگائی نثاری ٹولے کو باجوہ فیض جنتا کی حمایت حاصل تھی جنہوں نے ایک طویل سازش کے بعد ترقی دشمن عمران خان کو پاکستان کی عوام پر مسلط کیا،31 مارچ 2022 کو پاکستان میں بجلی کا گردشی قرضہ تاریخ کی سب سے زیادہ سطح 2467 ارب روپے تھا، محمد شہباز شریف کی قیادت میں 15 جماعتوں پر مشتمل حکومت نےگردشی قرضہ 157 ارب روپے کم کیا، 30 جون 2023 کو بجلی کا گردشی قرضہ 2310 ارب روپے تھا، محمد شہبازشریف نے پاکستان کی بجلی کی پیداوار میں نئے 5000 میگا واٹ کا اضافہ کیا، تھر کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کے نئے 1980 میگاواٹ ہیں، تھر کوئلے کا آغاز 2014 میں نواز شریف نے کیا تھا، عمرانی دور میں تعطل کا شکار شہبازشریف نے مکمل کئے پاکستان کو بجلی فراہم کرنا شروع، عمران خان کے 2019 میں ائی ایم ایف سے کیے گئے غریب دشمن معاہدے کی وجہ سے بجلی کی قیمت میں بار بار اضافہ ہوا۔ بنیادی ذمہ داری اج بھی نثاری ٹولے پر ہے جس نے پاکستان کو غیر متوازن کرنے میں گھناونا کردار ادا کیا۔ فیصلوں کی وجہ سے اورنج لائن اور اہم توانائی کے منصوبے تاخیر کی نظر ہوئے۔