بٹگرام میں اسکول جانے والے 7 طلبہ سمیت 8 افراد ہزاروں فٹ بلند چیئر لفٹ میں پھنسے ہوئے ہیں جن کے نام اے آر وائی نیوز کو موصول ہوگئے ہیں ADN نیوز کے مطابق آج صبح بٹگرام تحصیل کے آلائی یوسی بٹنگی پاشتو کے علاقے میں مقامی افراد کی آمدورفت کے لیے استعمال ہونے والی چیئر لفٹ کی رسی ٹوٹ گئی تھی جس کے باعث کئی گھنٹوں سے طلبہ اور اساتذہ زمین سے ہزاروں فٹ بلندی پر پھنسے ہوئے تھے جن کو ریسکیو کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر جائے وقوعہ پر پہنچ گیا ہے چیئر لفٹ میں حادثے کے وقت کون کون سوار تھا اس کی تفصیلات میڈیا نے حاصل کرلیں جس کے مطابق چیئر لفٹ میں اسکول ٹیچر گلفراز ولد عبدالحکیم کے علاوہ 7 طالب علم سوار ہیں جن کی عمریں 10 سے 13 سال کے درمیان ہیں جو طلبہ چیئر لفٹ میں موجود ہیں ان میں ابرار ولد عبدالغنی، عرفان ولد عمریز، اسامہ ولد محمد شریف، رضوان اللہ ولد عبدالقیوم، عطا اللہ ولد کفایت اللہ، نیاز محمد ولد عمر زیب اور شیر نواز ولد شاہ نذر شامل ہیں ریسکیو کے لیے آرمی ہیلی کاپٹر بٹگرام پہنچ چکا ہے اور امدادی سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں رپورٹ کے مطابق چیئر لفٹ کی تین میں سے دو تار ٹوٹ چکے ہیں۔ چیئر لفٹ کے تھوڑا غیر متوازن ہونے یا ہیلی کاپٹر سے پیدا ہونیوالے ہوائی پریشر سے بچ جانے والا واحد تار بھی ٹوٹ سکتا ہے ہزاروں فٹ بلند چیئر لفٹ میں پھنسے طلبہ واساتذہ کو بچانے کے لیے پاک فوج سے مدد طلب اس نازک صورتحال کے باعث پاک فوج کا ہیلی کاپٹر سلنگ آپریشن کے لیے متاثرہ علاقے کی ریکی کر رہا ہے اور ریسکیو آپریشن کے لیے انتہائی محتاط طریقہ اختیار کیا جائے گا۔