سکھر : نیشنل پریس کلب نیوز/سکھر کے شہید صحافی جان محمد مھر کے قتل کا معاملہ، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی کال پر سکھر میں احتجاج کیا گیا، سکھر یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے رہنماؤں نے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کو مسترد کرتے ہوئے حاضر سروس جسٹس کی سربراہی میں ٹیم بنانے کا مطالبہ کردیا، اس موقع پر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی رہنما پرویز خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سینئر صحافی جان محمد مھر کو ایک سازش کے تحت قتل کیا گیا، قاتلوں کو گرفتار کرکے منصوبہ بندی کرنے والے سازشی عناصر کو ظاہر کیا جائے، سکھر یونین آف جرنلسٹس کے صدر رشید رضا اور جنرل سکریٹری ساحل جوگی نے کہا کہ ایس ایس پی سکھر کی سربراہی میں بنائی گئی جی آئی ٹی قبول نہیں، حاضر سروس جسٹس کی سربراہی میں جی آئی ٹی تشکیل دی جائے، جس میں حساس اداروں کے میجر رینک کے افسران کو شامل کیا جائے، دین محمد سمیجو، عارف میمن، رئوف عباسی، مجید مہر، نثار چنجن، اشرف ابڑو، ذوالفقار ملاح، عادل ابڑو، راھب منگریو، کے بی شیخ، مظفر منگی،شوکت مہر، یاسر انصاری و دیگر نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ سکھر ریجن میں صحافی عدم تحفظ کا شکار ہیں، ایک ہفتے کے دوران جان محمد مھر اور اصغر کَھنڈ کو قتل کیا گیا تاحال اصل ملزمان گرفتار نہیں کیئے گئے، سندھ بھر میں صحافیوں کو قتل کرنا اور جھوٹے مقدمات درج کرنا معمول بن گیا ہے، مسلم لیگ نے سکھر کے صدر خورشید میرانی، پاکستان تحریک انصاف سکھر کے صدر صوفی ظہیر بابر، لبیک سکھر کے رہنما سلیم جاگیرانی، سیاسی و سماجی رہنما اسماعیل سومرو، مہتاب انصاری، ضمیر گھنیو و دیگر نے کہا کہ سندھ کی دھرتی صحافیوں کے لیے تنگ کی گئی ہے، صحافی عدم تحفظ کا شکار ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ جان محمد مھر قتل کیس کے تمام ملزمان کو گرفتار کیا جائے، دوسری جانب سکھر نیشنل پریس کلب کے گراؤنڈ کو شہید جان محمد مھر کے نام سے منسوب کیا گیا، گراؤنڈ میں شہید صحافی جان محمد مھر کے نام سے 50 سے زائد درخت لگائے گئے اور روح کو ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی.