پاکستان کیلئے موجودہ حالات میں یہ بجٹ اہم ہے پاکستان کو بجٹ پاس کرنے سے پہلے آئی ایم ایف بورڈ کے آخری جائزے کا سامنا کرنا پڑے گا،پاکستان میں ایکسچینج مارکیٹ کو آزادنہ کام کرنے کا موقع دیا جائے،پاکستان میں آئی ایم ایف کی نمائندہ ایسٹر پریز کی گفتگو

اسلام آباد : آئی ایم ایف کی پاکستان میں نمائندہ ایسٹر پریز کا کہنا ہے کہ پاکستان کیلئے موجودہ حالات میں یہ بجٹ اہم ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں آئی ایم ایف کی نمائندہ ایسٹر پریز نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے رابطہ کیا۔ ایسٹر پریز نے کہا ہے کہ پاکستان کو بجٹ پاس کرنے سے پہلے آئی ایم ایف بورڈ کے آخری جائزے کا سامنا کرنا پڑے گا،موجودہ بیل آؤٹ پیکیج کے تحت 9 جون کا بجٹ اہم ہے۔بجٹ سے قبل پاکستان کے پاس صرف ایک باقی رہ جانے والا بورڈ جائزہ ہو سکتا ہے،بجٹ میں اصلاحات کرنا کامیاب جائزے کی جانب ایک قدم ہے۔ نمائندہ آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایکسچینج مارکیٹ کو آزادنہ کام کرنے کا موقع دیا جائے،امید ہے پاکستان بجٹ میں آئی ایم ایف کے اہداف کے حصول کو شامل کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو 6 ارب ڈالر کے فنانسنگ گیپ کو پورا کرنا ہے،پاکستان کو 6 ارب ڈالر کیلئے پر اعتماد فنڈنگ کی یقین دہانی کی ضرورت ہے۔ادھر مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما محمد زبیر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام ختم ہوا تو مدد کیلیے کہیں نہ کہیں جانا پڑے گا۔ پاکستان کی اس وقت اتنی صلاحیت نہیں کہ بیرونی قرضہ ادا کر سکے،آئی ایم ایف پروگرام نہ ہو تو بھی بجٹ کو بیلنس کرنا پڑے گا۔ آئی ایم ایف سے گفتگو کے پیش نظر حکومت کو معاشی امور کا ادراک ہے۔ محمد زبیر نے کہا کہ ایسے اقدامات کرنے ہیں کہ آنے والی نگران حکومت آئی ایم ایف سے روابط رکھے،آئی ایم ایف پروگرام نہ ہوا تو حکومت پلان بی کی طرف دیکھے گی۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت کو مہنگائی،غربت جیسے اور بھی مسائل کا سامنا ہے۔غریب اور مڈل کلاس چاہتا ہے کہ ملک سے مہنگائی کا خاتمہ ہو،پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج مہنگائی ہی ہے۔