پنجاب حکومت نے یاسمین راشد کی بریت لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دی

لاہور : پنجاب حکومت نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی بریت کو چیلنج کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے صدر پی ٹی آئی پنجاب یاسمین راشد کی بریت کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔ درخواست میں یاسمین راشد اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے حقائق کے برعکس یاسمین راشد کو مقدمے سے ڈسچارج کیا۔یاسمین راشد نے جناح ہاؤس پر حملہ کرنے والوں کی قیادت کی،تمام ثبوت ہونے کے باوجود صدر پی ٹی آئی پنجاب کو مقدمے سے ڈسچارج کیا گیا۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ یاسمین راشد کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ یاد رہے کہ 3 جون کو انسداد دہشت گردی عدالت نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد کو مقدمہ سے ڈسچارج کر دیا تھا۔یاسمین راشد کو انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا تھا،پولیس نے یاسمین راشد کو تھانہ سرور روڈ مقدمے میں نامزد کیا،یاسمین راشد کو ملزمان کے بیانات کی روشنی میں مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا۔ عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کیا،عدالت نے قرار دیا کہ یاسمین راشد کے خلاف ریکارڈ پر کوئی ثبوت موجود نہیں۔عدالت یاسمین راشد کو اس مقدمے سے ڈسچارج کرتی ہے،یاسمین راشد کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو رہا کیا جائے۔ جبکہ پنجاب فرانزک ایجنسی نے یاسمین راشد کی رپورٹ بھی جاری کی۔ فرانزک رپورٹ کے مطابق یاسمین راشد کی جناح ہاؤس پر حملے کے وقت موجودگی ثابت ہوگئی،حملے کے وقت کی 3 آڈیوز اور ویڈیوز یاسمین راشد کی ہی ہیں۔فوٹوگرامیٹک ٹیسٹ میں یاسمین راشد کی جناح ہاؤس میں موجودگی پائی گئی۔