بجٹ سے قبل پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان رابطہ

آئی ایم ایف نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اخراجات میں کمی کا مطالبہ کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بجٹ سے قبل پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان رابطہ ہوا ہے،آئی ایم ایف نے ٹیکس آمدن کا ہدف 10 ہزار ارب روپے سے زائد مقرر کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف کو مذاکرات آگے بڑھانے کیلئے راضی کر لیا،پاکستان نے آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدے کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔یاد رہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کا تخمینہ 16.6 ٹریلین روپے ہے جبکہ گزشتہ سال 9.5 ٹریلین روپے کا بجٹ تھا۔ آئندہ بجٹ میں میں لگژری آئٹمز اور بینک سے پیسے نکلوانے پر ٹیکسز بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے۔بجٹ میں 100 ڈالر سے زائد مالیت کے موبائل فونز پر ڈیوٹی بڑھنے کا بھی امکان ہے۔بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد اور پینشن میں 15 فیصد اضافہ کی تجویز ہے،بجٹ میں سیلز ٹیکس 15 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کئے جانے کا امکان ہے۔ایف بی آر کا ٹارگیٹ 8200 بلین روپے رکھا گیا ہے جو گزشتہ سال 7000 بلین روپے تھا۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2023-24ء کے بجٹ میں سمارٹ فونز سمیت بعض لگژری درآمدی اشیا پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ متوقع ہے،باہر سے منگوائے جانے والے مشروبات، سگریٹس، میک اپ کے سامان اور برقی آلات پر 25 فیصد سیلز ٹیکس برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔ حکومت کی جانب سے بجٹ 2023-24ء میں سمارٹ فونز سمیت بعض لگژری درآمدی اشیا پر ٹیکس میں اضافہ متوقع ہے جس سے موبائل فونز مہنگے ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق 100 ڈالر سے زائد مالیت کے موبائل پر ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز ہے،امپورٹڈ الیکٹرونکس آئٹمز پر سیلز ٹیکس 25فیصد برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔