آئندہ بجٹ میں لگژری آئٹمز،بینک سے پیسے نکلوانے پر ٹیکسز بڑھانے کی تجویز زیر غور

آئندہ بجٹ میں لگژری آئٹمز ، بینک سے پیسے نکلوانے پر ٹیکسز بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے۔بجٹ میں 100 ڈالر سے زائد مالیت کے موبائل فونز پر ڈیوٹی بڑھنے کا بھی امکان ہے۔ بجٹ کا تخمینہ 16.6 ٹریلین روپے ہےجبکہ گزشتہ سال 9.5 ٹریلین روپے کا بجٹ تھا۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد اور پینشن میں 15 فیصد اضافہ کی تجویز ہے ،بجٹ میں سیلز ٹیکس 15 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کئے جانے کا امکان ہے۔ایف بی آر کا ٹارگیٹ 8200 بلین روپے رکھا گیا ہے جو گزشتہ سال 7000 بلین روپے تھا۔ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2023-24ء کے بجٹ میں سمارٹ فونز سمیت بعض لگژری درآمدی اشیا پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ متوقع ہے ،باہر سے منگوائے جانے والے مشروبات، سگریٹس، میک اپ کے سامان اور برقی آلات پر 25فیصد سیلز ٹیکس برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق حکومت کی جانب سے بجٹ 2023-24ء میں سمارٹ فونز سمیت بعض لگژری درآمدی اشیا پر ٹیکس میں اضافہ متوقع ہے جس سے موبائل فونز مہنگے ہونے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق 100ڈالر سے زائد مالیت کے موبائل پر ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز ہے جبکہ ڈرنکس اور سگریٹس پر ٹیکس کی شرح برقرار رکھنے کی تجویز، امپورٹڈ انرجی سیور بلب، فانوس اور ایل ای ڈی بھی مہنگے ہونے کا امکان ہے، امپورٹڈ الیکٹرونکس آئٹمز پر سیلز ٹیکس 25فیصد برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں میک اپ کے امپورٹڈ سامان پر 25فیصد سیلز ٹیکس برقرار رہے گا، پالتو جانوروں کی امپورٹڈ خوراک پر بھی 25فیصد سیلز ٹیکس رہے گا، امپورٹڈ بسکٹ اور بیکری آئٹمز پر 25فیصد سیلز ٹیکس برقرار رہنے کا امکان ہے، امپورٹڈ چاکلیٹ، کینڈی پر سیلز ٹیکس کی شرح 25فیصد برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔