سابق سینیٹر مشتاق احمد

سابق سینیٹر مشتاق احمد کی اہلیہ نے خلع لے لی، فیملی کورٹ کا فیصلہ

اسلام آباد: جماعت اسلامی کے ممتاز رہنما اور سابق سینیٹر مشتاق احمد کی اہلیہ حمیرا طیبہ نے فیملی کورٹ سے باقاعدہ خلع حاصل کر لی ہے، جس کے بعد عدالت نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے خلع کی ڈگری جاری کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کی فیملی کورٹ میں سابق سینیٹر مشتاق احمد کی اہلیہ حمیرا طیبہ کی جانب سے دائر خلع کے دعوے پر اہم سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت فیملی کورٹ کی فاضل جج امبرین اقبال نے کی۔ سماعت کے دوران مدعیہ حمیرا طیبہ کے قانونی موقف اور پیش کردہ دلائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

عدالتی کارروائی کے دوران فیملی کورٹ نے تمام قانون تقاضوں اور شواہد کا معائنہ کرنے کے بعد حمیرا طیبہ کے حق میں خلع کا فیصلہ سنایا۔ فاضل جج امبرین اقبال نے خلع کا دعویٰ منظور کرتے ہوئے خلع کی ڈگری جاری کی اور کیس کو باضابطہ طور پر نمٹا دیا۔

سابق سینیٹر مشتاق احمد پاکستان کی سیاسی و مذہبی قیادت میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ وہ ایوان بالا یعنی سینیٹ آف پاکستان کے رکن رہ چکے ہیں اور مختلف قومی و بین الاقوامی سیاسی و سماجی امور پر کھل کر اظہار خیال کرتے رہے ہیں۔ حال ہی میں وہ فلسطین کے حق میں اور غزہ پر اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاجی تحاریک میں بھی انتہائی متحرک رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سابق سینیٹر مشتاق احمد اور ان کی اہلیہ کے مابین گزشتہ کچھ عرصے سے گھریلو ناچاقی چلی آ رہی تھی، جس کے بعد معاملے کو قانونی راستے سے حل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا۔ فیملی کورٹ کی جانب سے خلع کی ڈگری کے اجرا کے بعد دونوں کی ازدواجی زندگی کا رسمی خاتمہ ہو گیا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق فیملی قوانین کے تحت جب فریقین کے درمیان نباہ کی صورت باقی نہ رہے تو عدالت خواتین کو خلع کا حق دیتی ہے۔ اسلام آباد فیملی کورٹ نے تمام ضوابط مکمل ہونے کے بعد ڈگری جاری کی ہے جس کی نقل فریقین کو فراہم کی جا رہی ہے۔