FATA/PATA ٹیکس استثنیٰ اسکیم

FATA/PATA ٹیکس استثنیٰ اسکیم کے مبینہ غلط استعمال پر تشویش

اسلام آباد: FATA/PATA ٹیکس استثنیٰ اسکیم کے مبینہ غلط استعمال پر سینیٹ کی داخلی اور انسداد منشیات کی ذیلی کمیٹی نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ کئی کمپنیوں نے مطلوبہ ریکارڈ فراہم نہیں کیے اور اربوں روپے کے بقایا ٹیکس کی وصولی میں تاخیر ہو رہی ہے۔

کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں سیف اللہ ابڑو کی صدارت میں منعقد ہوا۔ سینیٹر عمر فاروق اور دیگر اراکین نے اس معاملے پر تفصیلی بحث کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم بنیادی طور پر ترقیاتی مقاصد کے لیے بنائی گئی تھی، لیکن اس کے غلط استعمال نے اس کے اصل مقصد کو متاثر کیا ہے۔

کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو فوری طور پر اس مسئلے کی تحقیقات کرنی چاہئیں تاکہ ان کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے جو اس اسکیم کا غلط استعمال کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو یہ قومی خزانے کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

کمیٹی نے مزید کہا کہ اس اسکیم کے تحت دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کا مقصد مقامی معیشت کو فروغ دینا تھا، لیکن اب یہ ایک بڑی چالاکی کا ذریعہ بن گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں حکومت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔