اسلام آباد: پاکستان میں سائبر حملے کی تعداد 2026 میں 1,000 سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے ملک کی سائبر سیکیورٹی کی تیاری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ قومی سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (CERT) نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان حملوں میں مختلف اقسام کی سائبر خطرات شامل ہیں، جو کہ حکومت اور کاروباری اداروں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
نیشنل CERT کے ڈائریکٹر جنرل حیدر عباس نے یہ اعداد و شمار قومی اسمبلی کی آئی ٹی اور ٹیلی کام کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران پیش کیے۔ انہوں نے بتایا کہ ان حملوں کی نوعیت میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے ملک کی سائبر سیکیورٹی کی تیاری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان حملوں کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
حیدر عباس نے یہ بھی بتایا کہ نیشنل CERT کی ٹیم میں ماہرین کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ سائبر خطرات کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے متعدد اقدامات کیے ہیں، لیکن ان حملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔
یہ اعداد و شمار اس وقت سامنے آئے ہیں جب دنیا بھر میں سائبر حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ حملے مزید خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔