کراچی: وزیر اعظم شہباز شریف سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ کراچی میں واقع 40 آٹو پارٹس کی فیکٹریوں کا معائنہ کریں۔ پاکستان کی آٹو پارٹس کی صنعت نے حکومت کی مقامی پیداوار کے بارے میں تشخیص کو چیلنج کیا ہے۔ پاکستان آٹوموٹو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAAPAM) کا کہنا ہے کہ مقامی فیکٹریاں گاڑی کی قیمت کا 65 فیصد تک اجزاء تیار کرتی ہیں۔
PAAPAM کے عہدیداروں نے وزیر اعظم کو بتایا کہ یہ اجزاء بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی فراہم کیے جاتے ہیں، جو کہ ملکی معیشت کے لیے ایک اہم ذریعہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت مقامی پیداوار کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے تو یہ صنعت مزید ترقی کر سکتی ہے۔
صنعتی رہنماؤں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ فیکٹریوں کا معائنہ کریں تاکہ وہ خود دیکھ سکیں کہ کس طرح یہ فیکٹریاں ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو مقامی صنعت کی ترقی کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ درخواست اس وقت سامنے آئی ہے جب حکومت نے مقامی پیداوار کی حمایت کے لیے مختلف اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ PAAPAM کے عہدیداروں نے امید ظاہر کی ہے کہ وزیر اعظم کا دورہ ان کی صنعت کے لیے مثبت نتائج لائے گا۔