ملتان کے فن کار جمیل بھٹہ

ملتان کے فن کار جمیل بھٹہ کی شاندار کہانی

ملتان: ملتان کے فن کار جمیل بھٹہ کی کہانی، سٹیج کی چکاچوند سے مرغ پیس کی دکان تک، ایک متاثر کن سفر کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ کہانی ایک ایسے فن کار کی ہے جو کبھی ملتان کے سٹیج کا چمکتا ہوا ستارہ تھا اور آج اپنی دکان پر ماضی کی یادوں میں گم ہے۔

ملتان کی تاریخی فضاؤں میں جب شام ڈھلتی ہے تو گھنٹہ گھر اور چھتوں پر روشنیوں کا رقص شروع ہو جاتا ہے۔ اسی شہر کی ایک معروف دکان پر جہاں ‘ماما جی کے مشہور مرغ پیس’ کی خوشبو فضا میں رچی بسی ہے، جمیل بھٹہ اپنے سنہری دنوں کو یاد کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ملتان میں ایک وقت تھا جب 12 تھیٹر ہوا کرتے تھے، اور یہاں کے فنکاروں کو دبئی کی طرح جانا جاتا تھا۔

جمیل بھٹہ کا کہنا ہے کہ ‘اگر کسی نے ڈرامے سے بہت زیادہ پیسے کمانے ہوتے تو وہ ملتان کی ڈیٹس رکھتا تھا، یہاں پیسے ہی پیسے تھے۔’ یہ شہر فن اور ثقافت کا مرکز تھا جہاں ہر کوئی اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کی کوشش کرتا تھا۔ آج، وہ اپنی دکان پر بیٹھے ماضی کی یادوں میں کھوئے ہوئے ہیں، جہاں ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ سٹیج کی چکاچوند میں گزرا۔

جمیل بھٹہ کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ زندگی کے سفر میں کامیابی اور ناکامی دونوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آج وہ اپنے فن کی یادوں کو سنبھالے ہوئے ہیں اور ملتان کی ثقافت کی ایک زندہ مثال ہیں۔ ان کی کہانی نہ صرف فن کی محبت کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اس شہر کی ثقافتی ورثے کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔