اسلام آباد: عبدل السید کے مسلم مخالف حملے نے امریکی سیاست میں مذہبی تعصب کی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے مسلمان امیدوار عبدل السید کی سینیٹ کی نشست کے لیے انتخابی مہم میں مذہبی منافرت اور سخت سیاسی بیان بازی کا سامنا ہے۔ یہ صورتحال انتخابات سے چند روز قبل پیدا ہوئی ہے، جس نے سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔
امریکی کانگریس کے انتخابات میں عبدل السید کی کامیابی کی صورت میں یہ بات اہم ہوگی کہ وہ کس طرح مذہبی تعصب کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ ان کی مہم میں شامل افراد نے واضح کیا ہے کہ وہ اس قسم کی نفرت انگیز بیان بازی کو برداشت نہیں کریں گے۔ اس کے باوجود، ان کے مخالفین نے ان پر سخت حملے کیے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مذہبی تعصب امریکی سیاست میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
عبدلسید کی مہم کے دوران، ان کے حامیوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کے لیے کام کر رہے ہیں جہاں مذہبی آزادی اور برداشت کو فروغ دیا جائے۔ تاہم، ان کے مخالفین نے انہیں نشانہ بنایا ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امریکی سیاست میں مذہبی تعصب کی جڑیں کتنی گہری ہیں۔
انتخابات کے قریب آتے ہی، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ عبدل السید کی مہم کس طرح ترقی کرتی ہے اور آیا وہ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ ان کے حامیوں کی امیدیں بلند ہیں کہ وہ نہ صرف اپنی نشست جیتیں گے بلکہ مذہبی تعصب کے خلاف ایک مضبوط پیغام بھی دیں گے۔