اسلام آباد: گوگل کی مارکیٹ ویلیو میں کمی نے سرمایہ کاروں کو حیران کر دیا ہے، جس کا نقصان پاکستان کی جی ڈی پی سے بھی زیادہ ہے۔ الفابیٹ، جو گوگل کی مادر کمپنی ہے، نے ایک ہی دن میں 500 ارب ڈالر سے زیادہ کی مارکیٹ ویلیو کھو دی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سرمایہ کاروں نے کمپنی کی مصنوعی ذہانت (AI) میں سرمایہ کاری کی شدت پر تشویش کا اظہار کیا۔
جمعرات کے روز، گوگل کے شیئرز میں تقریباً 13 فیصد کی کمی واقع ہوئی، جس کے نتیجے میں کمپنی کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 3.97 ٹریلین ڈالر سے کم ہو کر 3.46 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ یہ قیمت چھ ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جس نے سرمایہ کاروں کے درمیان بے چینی کی لہر دوڑا دی۔
یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں سرمایہ کاری کے فیصلے کتنے حساس ہو سکتے ہیں۔ جب بھی کوئی بڑی تبدیلی یا سرمایہ کاری کی خبر آتی ہے، تو مارکیٹ میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ گوگل کی اس بڑی مالیاتی کمی نے نہ صرف اس کی ساکھ پر اثر ڈالا ہے بلکہ اس کے مستقبل کی ترقی کی سمت بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ گوگل کی مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری طویل مدتی میں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اس وقت کی یہ کمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ واقعہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں دیگر کمپنیوں کے لیے بھی ایک انتباہ ہے کہ مارکیٹ کے حالات کتنے غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔