کراچی: کراچی ٹریفک حادثہ میں جاں بحق حاملہ خاتون فائزہ کی 3 نومبر کو ڈیلیوری متوقع تھی۔ یہ حادثہ لیاقت آباد کے علاقے میں پیش آیا جہاں ایک ٹریلر نے موٹرسائیکل کو ٹکر مار دی۔ فائزہ، جو 9 ماہ کی حاملہ تھیں، اپنے شوہر کے ساتھ سندھ گورنمنٹ اسپتال چیک اپ کے لیے آئی تھیں۔
<pحادثے کے بعد فائزہ کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ ان کے اہل خانہ نے بتایا کہ فائزہ کی ڈیلیوری کی تاریخ قریب تھی اور وہ اپنے بچے کی آمد کے لیے بے حد خوش تھیں۔ یہ واقعہ نہ صرف ان کے خاندان کے لیے بلکہ پورے علاقے کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔
علاقے کے لوگوں نے اس حادثے کے بعد ٹریفک کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور تیز رفتاری کی وجہ سے ایسے حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس مسئلے کا فوری حل نکالیں تاکہ مزید جانیں ضائع نہ ہوں۔
فائزہ کے اہل خانہ نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کریں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کراچی میں ٹریفک کے نظام میں بہتری کی ضرورت ہے تاکہ شہری محفوظ رہ سکیں۔