اسلام آباد: ایران امریکا مذاکرات کے حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ دوحا اور اسلام آباد ایران امریکا مذاکرات میں فعال ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ مذاکرات اس وقت انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، کیونکہ ایران کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ اگر بات چیت کامیاب نہیں ہوتی تو فوجی جارحیت کی غلطی دہرائی جا سکتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اس ثالثی عمل میں درجنوں ٹیلی فونک رابطے اور بھرپور سفارتی کوششیں کی گئی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران سفارتکاری اور جنگ دونوں صورتحال کے لیے پہلے سے زیادہ تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت فیصلہ کرنے کا ہے کہ آیا مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے یا پھر ماضی کی غلطیوں کو دہرایا جائے۔
ایران کی حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی جارحیت کے خلاف مضبوطی سے کھڑی رہے گی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں ایران کی حمایت کریں تاکہ امن قائم کیا جا سکے۔ اس وقت عالمی سطح پر ایران کے ساتھ مذاکرات کی اہمیت بڑھ گئی ہے، خاص طور پر جب کہ خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ایران کی جانب سے یہ پیغام واضح ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کو برداشت نہیں کرے گا اور اس کے لیے وہ ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ امریکا اس صورتحال کا کس طرح جواب دیتا ہے اور آیا مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی یا نہیں۔