اسلام آباد: افغان تارکین وطن کو امریکا سے پاکستان کے راستے واپس بھیجنے کا منصوبہ امریکی انتظامیہ نے تیار کیا ہے۔ یہ اقدام ان افغان شہریوں کے لیے ہے جو امریکا میں جرائم کی وجہ سے حراست میں ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، یہ منصوبہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ ان تارکین وطن کو ان کے وطن واپس بھیجا جا سکے۔
<pامریکی حکومت نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ یہ اقدام افغان تارکین وطن کی تعداد میں کمی لانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت، وہ افغان شہری جو امریکا میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں، انہیں پاکستان کے راستے افغانستان بھیجا جائے گا۔ اس عمل کا مقصد امریکا میں موجود افغان تارکین وطن کی مشکلات کو کم کرنا اور ان کی وطن واپسی کو آسان بنانا ہے۔
<pیہ منصوبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکا میں افغان تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو طالبان کے دور حکومت کے بعد وہاں منتقل ہوئے تھے۔ امریکی حکومت نے اس بات کا عزم کیا ہے کہ وہ ان تارکین وطن کی مدد کرے گی جو اپنے وطن واپس جانا چاہتے ہیں، لیکن ان کی واپسی کے لیے ایک منظم طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
<pاس کے علاوہ، یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ منصوبہ صرف ان افغان شہریوں کے لیے ہے جو جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اس کے تحت، ان کی واپسی کے لیے پاکستان کا راستہ اختیار کیا جائے گا، جہاں سے انہیں افغانستان بھیجا جائے گا۔ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کے تحت کیا جائے گا تاکہ انسانی حقوق کا احترام کیا جا سکے۔
<pامریکی انتظامیہ کی جانب سے اس منصوبے کی تفصیلات ابھی تک مکمل طور پر سامنے نہیں آئی ہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ یہ اقدام افغان تارکین وطن کی مشکلات کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی، یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آیا یہ منصوبہ عملی طور پر کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔