ایران پر حملہ

ایران پر حملہ: اسرائیل کا فیصلہ نہیں، امریکا کا تھا

اسلام آباد: ایران پر حملہ کا فیصلہ اسرائیل کا نہیں بلکہ امریکا کا تھا، یہ دعویٰ اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینون نے کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس اہم فیصلے میں اسرائیل کی کوئی شمولیت نہیں تھی، بلکہ یہ مکمل طور پر امریکا کی حکمت عملی کا حصہ تھا۔

ڈینی ڈینون نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل ہمیشہ اپنے دفاع کے لیے تیار رہتا ہے، لیکن اس بار یہ فیصلہ امریکا کی طرف سے لیا گیا۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ اسرائیل کی سیکیورٹی کے لیے یہ اقدام ضروری تھا۔

اسرائیلی سفیر نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر نظر رکھے اور اس کے خطرات کا سنجیدگی سے جائزہ لے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی سرگرمیاں خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں اور اس کا اثر عالمی امن پر بھی پڑ سکتا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ اسرائیل اور امریکا دونوں ہی ایران کے ایٹمی پروگرام کو ایک بڑا خطرہ سمجھتے ہیں اور اس کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔