اسلام آباد: پی ٹی اے کی نئی فیس کے تحت انٹرنیٹ کمپنیوں کے لیے ایک لاکھ روپے کی فیس مقرر کی گئی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) خدمات کے لیے ایک نیا لائسنسنگ نظام متعارف کرانے کی تجویز دی ہے۔ یہ اقدام ملک میں انٹرنیٹ خدمات کی بہتری اور ان کی نگرانی کے لیے کیا جا رہا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق، یہ نئی فیس انٹرنیٹ کمپنیوں کی رجسٹریشن کے عمل کو منظم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس کے ذریعے پی ٹی اے کو یہ موقع ملے گا کہ وہ ان کمپنیوں کی کارکردگی اور خدمات کی معیار کو بہتر بنا سکے۔ اس اقدام کا مقصد صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرنا اور مارکیٹ میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔
اس نئے نظام کے تحت، تمام انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیاں جو IoT خدمات پیش کرتی ہیں، انہیں ایک لاکھ روپے کی فیس ادا کرنی ہوگی۔ یہ فیس ان کمپنیوں کے لیے ایک اہم قدم ہے جو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے کاروبار کو بڑھانا چاہتی ہیں۔ پی ٹی اے نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ فیس ان کمپنیوں کی ذمہ داریوں کو بڑھانے اور ان کی خدمات کی نگرانی کے لیے ضروری ہے۔
پی ٹی اے کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نئے نظام کے تحت انٹرنیٹ کمپنیوں کو اپنی خدمات کی بہتری کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی، صارفین کو بھی بہتر خدمات کی توقع رکھنی چاہیے۔ یہ اقدام ملک میں انٹرنیٹ کی ترقی کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔