اسلام آباد: مشرق وسطیٰ کی ابتر ہوتی سیاسی صورتحال کے دوران اپوزیشن رہنما گاڈی آئزنکوٹ کو وزیراعظم بننے کے لیے مطلوبہ پارلیمانی اکثریت حاصل ہو گئی ہے ، جس کے بعد موجودہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے اقتدار کے خاتمے کا خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے نئی حکومت کی تشکیل اور سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے تمام اہم سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے باضابطہ مشاورت شروع کر دی ہے۔ صدر مملکت کے ساتھ ہونے والی ان ملاقاتوں میں ملک کی موجودہ سیکیورٹی اور معاشی صورتحال کے پیش نظر نئی اتحاد سازی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سیاسی بحران اور نئے وزیراعظم کا انتخاب
شار پارٹی کے سربراہ گاڈی آئزنکوٹ کو اس وقت اپوزیشن کی تمام بڑی جماعتوں اور چند اہم اتحادیوں کی حمایت حاصل ہو چکی ہے۔ بینجمن نیتن یاہو کی حکومت پر جنگی حکمت عملی اور داخلی پالیسیوں کے حوالے سے شدید تنقید کی جا رہی ہے ، جس کے باعث ان کے اپنے اتحادی بھی اب ان سے الگ ہونے پر غور کر رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گاڈی آئزنکوٹ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نیتن یاہو کے لیے ایک زبردست چیلنج بن چکی ہے۔ اگر پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک منظور ہو جاتی ہے تو نیتن یاہو کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑے گا اور ملک میں ایک نئی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
نیتن یاہو حکومت کے گرد گھیرا تنگ
اسرائیل میں جاری مسلسل سیاسی کشمکش نے نیتن یاہو انتظامیہ کو شدید دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ عسکری اور سیاسی حلقوں میں یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ موجودہ القيادت ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔ گاڈی آئزنکوٹ نے اپنے حالیہ بیانات میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ملک میں سیاسی استحکام اور شفافیت لانے کے لیے تیار ہیں۔
صدارتی محل میں جاری مشاورت کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں بڑے فیصلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ اپوزیشن کے تمام بڑے رہنما اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ موجودہ حکمران اتحاد اب عوامی اور سیاسی اعتماد کھو چکا ہے ، لہٰذا فوری طور پر نئی قیادت کو موقع دیا جانا چاہیے۔
بین الاقوامی ردعمل اور مستقبل کی حکمت عملی
عالمی برادری اور بالخصوص امریکی حکام بھی اس سیاسی تبدیلی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ خطے میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال کے مدنظر آنے والے دن اسرائیلی سیاست کے لیے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ اگر گاڈی آئزنکوٹ کامیابی سے نئی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو خطے کی مجموعی سیاسی اور عسکری حکمت عملی میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔