ماہر معاشیات اور سابق ترجمان وزارت خزانہ مزمل اسلم نے بھاری بجلی بلوں کے ستائے عوام کو ریلیف دینے کے لیے نگراں وفاقی حکومت کو اہم تجویز دے دی ہےADN نیوز کے مطابق ماہر معاشیات اور سابق ترجمان وزارت خزانہ مزمل اسلم نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے نگراں حکومت کو مہنگی بجلی کے ستائے پریشان حال اور سڑکوں پر سراپا احتجاج غریب عوام کو ریلیف دینے کے لیے اہم تجویز دی ہے مزمل اسلم نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ چار ماہ میں چینی کی قیمتوں میں دُگنا اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے 6 ماہ میں چینی کے کاروبار میں 255 سے 260 ارب روپے کے لگ بھگ منافع کمایا گیا ہے اور اگر قیمت یہی رہی تو چینی کے کاروبار کرنے والوں کو مزید 127 ارب روپے کا منافع ہوگا۔ یہ منافع ایک سال میں ایک چوتھائی ملک کے ترقیاتی اخراجات سے بھی زیادہ ہے ماہر معاشیات نے تجویز دی ہے کہ حکومت چینی سے کمائے جانے والے منافع پر ٹیکس لگا دے، عوام کو اس ٹیکس کے ذریعے رقم سے بجلی کے بلوں میں بڑا ریلیف دیا جاسکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ 16 ماہ قبل جب پی ٹی آئی کی حکومت گئی تو چینی کی قیمت 85 روپے فی کلو تھی جو اب دُگنی قیمت پر 150 سے 180 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ پاکستان میں چینی کی سالانہ کھپت 60 لاکھ ٹن ہے، قیمت میں 85 روپے فی کلو اضافے سے ایک ٹن میں 85 ہزار روپے کا منافع ہوتا ہے اور اس طرح چینی کا کاروبار کرنے والوں کو براہ راست 510 ارب روپے کا منافع ہوتا ہے سابق ترجمان وزارت خزانہ نے کہا کہ پاکستان میں 50 فیصد مہنگائی کی شرح کے پیچھے پی ڈی ایم حکومت کی سہولت کاری ہے، اس نے گزشتہ سال سویا بین پر پابندی عائد کی جس کے نتیجے میں مرغی جو 250 سے 300 روپے فی کلو دستیاب تھی وہ 500 سے 600 روپے کلو تک جا پہنچی۔ اس پابندی سے سویا بین کا کاروبارکرنے والے افراد نے بھی اربوں روپے کمائے۔